ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گیان واپی مسجد معاملہ : مسلم فریق ہائی کورٹ سے رجوع؛ پوجا کیلئے داخل کی گئی پٹیشن کو قابل سماعت ماننے کے فیصلے کو چیلنج

گیان واپی مسجد معاملہ : مسلم فریق ہائی کورٹ سے رجوع؛ پوجا کیلئے داخل کی گئی پٹیشن کو قابل سماعت ماننے کے فیصلے کو چیلنج

Mon, 17 Oct 2022 01:50:32    S.O. News Service

وارانسی 16/اکتوبر(ایس او نیوز) گیان واپی مسجد سے متصل شرنگار گوری کی پوجا کی اجازت والی عرضیوں کو قابل سماعت قرار دینے کے ضلعی عدالت کے فیصلے کو  مسلم فریق نے ہائی کورٹ  میں چیلنج کردیا ہے ۔ ساتھ ہی درخواست کی گئی ہے کہ ہائی کورٹ جب تک اس پٹیشن پر فیصلہ نہ سنادے تب تک ضلعی عدالت میں اس معاملے کی شنوائی پر روک لگائی جائے۔اس پٹیشن پر اگلے ہفتہ سماعت کی امید ہے۔ ہائی کورٹ میں گیان واپی مسجد سے متعلق پانچ مزید معاملے پہلے سے   زیرالتوا ہیں، جن میں سے۳؍کی سماعت مکمل  ہو چکی  ہے مگر فیصلہ محفوظ رکھا گیا ہے۔کمپلیکس کے سروے سے متعلق ۲؍ معاملے بھی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ 
 ہائی کورٹ میں داخل کی گئی  پٹیشن میں انجمن  انتظامیہ مساجد  نےموقف اختیار کیا ہے کہ پوجا سے متعلق عرضیوںکو  سماعت کیلئے قبول کرنا ۱۹۹۱ءکے پلیس آف ورشپ ایکٹ کی صریح خلاف ورزی ہے۔مذکورہ قانون کے مطابق، یوم آزادی کے روز جن عبادتگاہوں کی  جو مذہبی حیثیت تھی اسے برقرار رکھا جائے گاا ور کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔  بابری مسجد کو اس قانون سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔   اہم بات یہ ہے کہ پلیس آف ورشپ ایکٹ کو بھی سپریم کورٹ میں  چیلنج کیاگیا ہے جس پر عدالت نے گزشتہ دنوں  مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ 

مسلم فریق نے اپنی عرضی میں یہ دلیل بھی دی ہے کہ نچلی عدالت کا فیصلہ آرڈر ۷؍، رول ۱۱؍سے مطابقت نہیں رکھتا۔ساتھ ہی،انجمن  انتظامیہ  مساجد  کا کہنا ہے کہ جب معاملہ ہائی کورٹ میں پہنچ چکا ہے تو نچلی عدالت میں اس پر اس وقت تک سماعت نہیں ہونی چاہئے،جب تک کہ ہائی کورٹ اپنا فیصلہ نہ سنادے ۔ ہائی کورٹ نےا بھی مسلم فریق کی اس عرضی پر شنوائی کی تاریخ تو مقرر نہیں کی ہے مگر مانا جارہا ہے کہ یہ سماعت اگلے ہفتہ ہوسکتی ہے۔ضلع جج ڈاکٹر اے کے وشویش نے ۱۲؍ستمبر کو انجمن مساجدا نتظامیہ کی عرضی کو یہ کہتے ہوئے خارج کردیا تھا کہ راکھی سنگھ سمیت ۵؍ ہندو خواتین کی عرضیاں قابل سماعت ہیں۔ان عرضیوں میں ہندو خواتین نے شرنگار گوری کی پوجا ارچنا کی اجازت طلب کی ہے۔ان عرضی گزاروں میں دہلی کی ریکھا سنگھ  اور دیگر عرضی گزاروں کی دلیل ہے کہ ۱۹۹۰ءکی دہائی تک یہاں پوجا پاٹھ ہوتی رہی ہے مگر بعد میں ملائم حکومت نے اس پر روک لگا دی تھی۔

 


Share: